The record
Written from the 1 report below. Nothing here is unsourced.
- The Pakistani government has introduced a Competitive Trading Bilateral Contract Market system to allow direct power purchase between producers and consumers.
- Large industrial users consuming over one megawatt are eligible to participate in this initial phase.
- The government aims to auction 400 megawatts of capacity initially, with plans to expand to 800 megawatts over five years.
- This policy seeks to reduce production costs for industries by bypassing government-mandated electricity rates.
- Ordinary domestic consumers will not see immediate relief or access to this market under the current phase.
What to watch next
- Expansion of eligibility to small industries and domestic consumers in coming years
- Impact of wheeling costs and government line rents on final electricity prices for industry
- Effectiveness of the system in reducing capacity payments burden
Who said what3
Only words found exactly in the article are shown, attributed and linked to the line they came from.
Owais Leghari
Federal Minister for Energy
2 quotes · 1 outlet
“پاکستان کے اندر یہ نظام رائج ہے کہ عام صارفین تک جتنی بھی بجلی پہنچتی ہے، وہ پہلے حکومتِ پاکستان خریدتی ہے اور پھر اِس کو اپنے ترسیلی نظام کے ذریعے عام صارفین تک پہنچاتی ہے۔”
In the article
…بجلی خرید کر صارفین کو فراہم نہیں کرے گی بلکہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والے اور بجلی خریدنے والے ایک شفاف طریقہ کار کے تحت آپس میں خود ہی بجلی کی خرید و فروخت کریں گے۔ اپنے اس بیان میں اویس لغاری وضاحت کرتے ہیں کہ ’ پاکستان کے اندر یہ نظام رائج ہے کہ عام صارفین تک جتنی بھی بجلی پہنچتی ہے، وہ پہلے حکومتِ پاکستان خریدتی ہے اور پھر اِس کو اپنے ترسیلی نظام کے ذریعے عام صارفین تک پہنچاتی ہے۔ ‘ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کمپنیوں سے کن شرائط پر یہ بجلی خریدتی ہے، مہنگی خریدتی ہے یا سستی، آئی پی پیز کا معاملہ ہے۔۔۔ اس پر عام صارفین کے ہمیشہ سے سوالات رہے ہیں۔ مگر آج کے بعد پاکستانی حکومت بجلی کی خریداری نہیں کرے…
“مگر آج کے بعد پاکستانی حکومت بجلی کی خریداری نہیں کرے گی اور بجلی پیدا کرنے والے اور بجلی خریدنے والے ایک شفاف طریقہ کار کے تحت آپس میں خود بجلی کی خرید و فروخت کریں گے۔”
In the article
…کو اپنے ترسیلی نظام کے ذریعے عام صارفین تک پہنچاتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کمپنیوں سے کن شرائط پر یہ بجلی خریدتی ہے، مہنگی خریدتی ہے یا سستی، آئی پی پیز کا معاملہ ہے۔۔۔ اس پر عام صارفین کے ہمیشہ سے سوالات رہے ہیں۔ مگر آج کے بعد پاکستانی حکومت بجلی کی خریداری نہیں کرے گی اور بجلی پیدا کرنے والے اور بجلی خریدنے والے ایک شفاف طریقہ کار کے تحت آپس میں خود بجلی کی خرید و فروخت کریں گے۔ ‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’اس کا آغاز سب سے پہلے انڈسٹریل یا بڑے صارفین (جو ایک میگا واٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں) سے ہو گا، اور اس کے بعد آئندہ برسوں میں عام صارف، جو 200 یا 400 یونٹ بھی استعمال کرتا ہے، تک اس کا دائرہ…
Manzoor Ahmed
1 quote · 1 outlet
“گھریلو صارفین کے لیے فی الحال بہتر یہی ہے کہ وہ سولر پر منتقل ہوں کیونکہ بجلی ویلنگ کے نئے نظام میں ان کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔”
In the article
…کوئی کمی نہیں آ سکے گی۔ ان کے مطابق اسی طرح چھوٹی صنعتوں اور تجارتی شعبے کے لیے بجلی کے ریٹ میں کوئی کمی نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے مرحلے میں بجلی ویلنگ کی نیلامی کے لیے اہل نہیں ہیں۔ ماہر توانائی منظور احمد کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کے لیے فی الحال بہتر یہی ہے کہ وہ سولر پر منتقل ہوں کیونکہ بجلی ویلنگ کے نئے نظام میں ان کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔
Coverage1
All filed from India
Named Pakistan · Afia Malik · Manzoor Ahmed · Ministry of Energy · Owais Leghari · Policy Research Institute for Equitable Development · World Bank
The 1 report is listed beside the record.
Ask this story
Answers cite the reports above, or say they can't.
