The record
Written from the 1 report below. Nothing here is unsourced.
- Women who were victims of grooming gangs in Oxford say they frequently encounter their abusers in public.
- Survivors describe being coerced into sexual acts after being given alcohol, cigarettes, and drugs by older men.
- Many victims believe hundreds of perpetrators involved in the systemic abuse during the 1990s and 2000s have never faced justice.
- A former police detective who led early investigations acknowledges that many individuals involved were never identified or prosecuted.
- Victims express lasting psychological trauma and a deep sense of injustice regarding the failure to hold all offenders accountable.
Who said what3
Only words found exactly in the article are shown, attributed and linked to the line they came from.
Sara
1 quote · 1 outlet
“میرے خیال میں اُنھیں ہمیشہ کے لیے جیل میں رہنا چاہیے کیونکہ اُنھوں نے مجھ سے میری زندگی چھین لی ہے۔”
In the article
…تین افراد کو پانچ سے 24 سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ لیکن سارہ کے لیے یہ بہت کم اور بہت دیر سے ہونے والا انصاف تھا۔ وہ اپنی زندگی کے اکثر حصے میں منشیات کی لت سے لڑتی رہی ہیں اور جیل بھی جا چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ میرے خیال میں اُنھیں ہمیشہ کے لیے جیل میں رہنا چاہیے کیونکہ اُنھوں نے مجھ سے میری زندگی چھین لی ہے۔ ‘ ایک اور متاثرہ خاتون کلوئی (جن کا نام تبدیل کیا گیا) کہتی ہیں کہ وہ بھی اپنے علاقے میں ماضی میں ان پر جنسی تشدد کرنے والوں کو دیکھتی رہتی ہیں۔ بہت سی دیگر متاثرین کی طرح اُنھوں نے بھی پولیس کے تحقیقاتی عمل میں شامل…
Rachel
1 quote · 1 outlet
“بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی درجے میں اس میں ملوث تھے اور بچوں کے جنسی استحصال میں شامل ہونے کے باوجود اپنی زندگیاں معمول کے مطابق گزار رہے ہیں۔”
In the article
…پھر اُس نے ان سے اورل سیکس کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ آکسفورڈ گرومینگ گینگ سے تعلق کے الزام میں اب تک مجموعی طور پر 21 مرد مجرم قرار دیے جا چکے ہیں تاہم ریچل کہتی ہیں کہ بہت سے مجرموں کو کبھی نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ’ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی درجے میں اس میں ملوث تھے اور بچوں کے جنسی استحصال میں شامل ہونے کے باوجود اپنی زندگیاں معمول کے مطابق گزار رہے ہیں۔ ‘ کلوئی آکسفورڈ گرومینگ گینگ کا شکار بننے والی ایسی خاتون ہیں جنھیں انصاف نہیں ملا۔ اب تک وہ صرف چند لوگوں کو بتا پائی ہیں کہ 13 سال کی عمر سے اُن کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اُن کی کہانی کئی متاثرین کی کہانیوں سے ملتی جلتی…
Simon Morton
1 quote · 1 outlet
“اس میں شامل لوگوں کی تعداد چونکا دینے والی ہے۔”
In the article
…سابق سینیئر جاسوس سائمن مورٹن نے آکسفورڈ میں گرومینگ گینگ کے خلاف ابتدائی تحقیقات کی قیادت کی تھی۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ابتدا میں وہ خود اور اُن کی فورس یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ کیا ہو رہا تھا۔ مورٹن کہتے ہیں کہ ’ اس میں شامل لوگوں کی تعداد چونکا دینے والی ہے۔ ‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ اُن کے خیال میں اس نوعیت کے کیسز اب بھی آکسفورڈ میں ’یقیناً‘ جاری ہیں۔ ’ہم نے مرکزی گروہ تک رسائی حاصل کی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مزید لوگ نہیں ہیں۔‘ ’میں چاہتا ہوں کہ سب کو سزا ملے، لیکن شناخت کرنا…
Coverage1
All filed from India
Named United Kingdom · Chloe · England · Oxford · Rachel · Sara · Thames Valley Police · Wales · BBC · Panorama · Simon Morton
The 1 report is listed beside the record.
Ask this story
Answers cite the reports above, or say they can't.
