The record
Written from the 1 report below. Nothing here is unsourced.
- A former student at Dhaka University tore down portraits of Pakistan's founder Muhammad Ali Jinnah from a university archive.
- This incident occurred following the reopening of a gallery that aimed to revise historical displays from the tenure of former Prime Minister Sheikh Hasina.
- Critics and student groups remain divided on whether Jinnah's historical role warrants inclusion in university archives.
- The event highlights ongoing tensions over national identity and historical narratives in Bangladesh following the political transition in 2024.
What to watch next
- Ongoing investigation into the destruction of the portraits by Dhaka University
- Further political debate regarding historical narratives in post-Hasina Bangladesh
Who said what2
Only words found exactly in the article are shown, attributed and linked to the line they came from.
Abu Tayeb
1 quote · 1 outlet
“وہ ہمارے لیے ولن تھے۔ وہ پاکستان کے بابائے قوم تھے، لیکن جب وہ بنگالیوں اور بنگلہ زبان کے خلاف ہوئے تو ہمارے لیے ولن بن گئے۔”
In the article
…تاریخ درست کرنے کی کوشش کی گئی۔ ’وہ ہمارے بابائے قوم نہیں تھے‘ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ابو طیب نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ محمد علی جناح ہمارے نہیں بلکہ پاکستان کے بابائے قوم تھے۔ ’ وہ ہمارے لیے ولن تھے۔ وہ پاکستان کے بابائے قوم تھے، لیکن جب وہ بنگالیوں اور بنگلہ زبان کے خلاف ہوئے تو ہمارے لیے ولن بن گئے۔ ‘ ’دی ڈیلی سٹار‘ کے مطابق اس گیلری میں بانی پاکستان کی تین تصاویر آویزاں کی گئی تھیں جن میں سے ایک مارچ 1948 کی ہے جس میں محمد علی جناح ڈھاکہ یونیورسٹی میں اُردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔…
S.M. Farhad
1 quote · 1 outlet
“اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے بغیر کسی بدمزگی کے سدھارا جا سکتا تھا، حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔”
In the article
…ونگ ہے۔ بنگلہ دیش اسلامی چھاترو کے رہنما ایس ایم فرہاد نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طرح سے ’بلوائی حملہ‘ تھا جس میں ان تصاویر کو پھاڑ دیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے بغیر کسی بدمزگی کے سدھارا جا سکتا تھا، حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ ‘ ایس ایم فرہاد کا کہنا تھا کہ محمد علی جناح نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہی اُردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کیا تھا اور یہ تصویر آویزاں کرنے کا مقصد یہی بتانا تھا، ’اگر ہم اسے تاریخ سے مٹانے کی کوشش کریں گے تو اس کا…
Coverage1
All filed from India
Named Bangladesh · Dhaka University · Abu Tayeb · Altaf Parvez · Daily Star · Islami Chhatra Shibir · Mahboob Hussain · Mir Sabir · Muhammad Ali Jinnah · Sheikh Hasina · Sheikh Mujibur Rahman · S.M. Farhad
The 1 report is listed beside the record.
Ask this story
Answers cite the reports above, or say they can't.
